بھٹکل 6/اپریل (ایس او نیوز) پرانی مچھلی مارکٹ کو چھوڑ کر نئی مچھلی مارکٹ میں جانے سے انکار کرتے ہوئے آج بدھ کو سینکڑوں مچھلی فروش خواتین نے بھٹکل میونسپالٹی عمارت کے باہر اور اندر مچھلیاں پھینک کر سخت احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ پرانی مارکٹ کی صفائی ستھرائی کی جائے اور پرانی مارکٹ میں ہی مچھلیوں کو فروخت کرنے مناسب انتظاما ت کئے جائیں۔
مچھلی فروش خواتین صبح قریب دس بجے اچانک میونسپل صدر اور چیف آفسر کو گھیرنے کے مقصد سے میونسپالٹی عمارت میں گھس گئیں ، مگر دونوں اپنے چمپر میں موجود نہیں تھے جس کو دیکھتے ہوئے خواتین نے احتجاج کرتے ہوئے میونسپالٹی عمارت کے داخلی دروازے کی سیڑھیوں پر ہی دھرنے پر بیٹھ گئیں۔ صدر پرویز قاسمجی جب میونسپل دفتر پہنچے تو انہوں نے احتجاجیوں کی طرف سے تین نمائندوں کو بات چیت کے لئے اپنے چمبر میں بلایا، جس پر مچھلی فروشوں کی طرف سے خواجہ، سلیمان اور رکشہ یونین صدر نیز بی جے پی لیڈر کرشنا نائک بات چیت کے لئے پہنچے۔ ان لوگوں نے بتایا کہ مچھلی مارکٹ کے ٹینڈر کو رد کیا گیا ہے اور پانچ دن پہلے مارکٹ میں بورڈ لگایا گیا ہے کہ مارکٹ کے اندر مچھلی فروش کسی کو بھی کرایہ نہ دے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کوئی کرایہ وصول نہیں کررہا تھا، لیکن پانچ دنوں سے وہاں صفائی بھی روکی گئی ہے اور اوپر سے رات کو وہاں باہر کا کچرا لاکر پھینکا گیا ہے ۔ میونسپل صدر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹینڈر رد نہیں ہوا بلکہ ابھی ٹینڈر بلایا ہی نہیں گیا ہے، باہر سے مارکٹ کے اندر کچرا پھینکنے کی شکایت پر میونسپل صدر نے چیف آفسر کو ہدایت دی کہ وہ فوری پولس تھانہ میں شکایت درج کریں کہ باہر کے کچھ لوگوں نے میونسپل مارکٹ والی عمارت میں کچرہ پھینکا ہے،لہٰذا پولس ا ُن لوگوں پر سخت کاروائی کرے۔ مچھلی فروشوں کی نمائندگی کرنے آئے ہوئے تینوں نمائندوں نے اس موقع پر صاف صاف الفاظ میں کہا کہ وہ نئی مارکٹ نہیں جائیں گے اور پرانی مارکٹ اُنہیں صاف کرکے دینی ہوگی۔ اسی بات پر ناراض ہوکرتینوں چمبر سے اُٹھ کر باہر چلے گئے، جس کے بعد مچھلی فروش خواتین مشتعل ہوگئیں اور میونسپالٹی عمارت کے باہر سڑک پر مچھلیاں پھینکنے کےساتھ ساتھ میونسپل عمارت کے اندر بھی مچھلیاں پھینکنا شروع کردیا، اس موقع پر جب خواتین میونسپالٹی کے اندر گھسنے کی کوشش کی تو پولس نے اُنہیں روک دیا۔ کچھ دیر کے لئے یہاں ہنگامہ آرائی رہی، بعد میں بھٹکل ڈی وائی ایس پی بیلی ایپّا جائے وقوع پر پہنچے اور مارکٹ کو صاف کرانے کا یقین دلاتے ہوئے احتجاجیوں کو وہاں سے روانہ کیا۔
مچھلی فروش خواتین کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ دن سے مارکٹ کی صفائی نہیں کی جارہی تھی جس کو دیکھتے ہوئے خود مچھلی فروش خواتین صفائی کررہی تھی اور مارکٹ میں بیٹھ کر مچھلیاں فروخت کررہی تھیں، مگر آج صبح اچانک مارکٹ کے اندر کوڑا کرکٹ پھینکا گیا ہے اور ہمیں مارکٹ کے اندر بیٹھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
معاملے کےتعلق سے میونسپل صدر پرویز قاسمجی نے بتایا کہ پرانی مچھلی مارکٹ میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، اگر کسی نے باہر سے کچرا لے جاکر مارکٹ کے اندر پھینکا ہے تو سی سی ٹی وی کیمرے میں اُن کی تصاویر قید ہوگی، ہم نے پولس تھانہ میں شکایت درج کرائی ہے کہ پولس اس تعلق سے اگلی کاروائی کرے۔
پانچ چھ دن سے مارکٹ کی صفائی روکے جانے کے تعلق سے پرویز قاسمجی نے بتایا کہ بھٹکل اسپتال روڈ پر نئی مچھلی مارکٹ کا افتتاح ہوکر تین سال ہوچکے ہیں، لیکن مچھلی فروش نئی ہائی جینک مارکٹ جانے کے لئے تیار نہیں ہیں، پرانی مارکٹ کی حالت خستہ ہوچکی ہے، عمارت کبھی بھی گرسکتی ہے، اس تعلق سے پی ڈبلیو ڈی کی طرف سے ڈی سی کو رپورٹ روانہ کی گئی ہے کہ پرانی مچھلی مارکٹ کی عمارت کبھی بھی گرسکتی ہے، اس لئے اب وہاں مچھلی فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، اسی طرح اب لوک ایوکتہ کی طرف سے بھی میونسپالٹی کو نوٹس جاری ہوئی ہے اور پوچھا گیا ہے کہ قریب دیڑھ کروڑ مالیت سے تعمیر کردہ مچھلی مارکٹ کو ابھی تک استعمال میں کیوں نہیں لایا جارہا ہے۔ ہم لوگ تین سال سے کوشش کررہے ہیں کہ مچھلی فروش خواتین اور دیگر لوگ نئی مارکٹ میں منتقل ہوجائیں مگر یہ لوگ کوئی نہ کوئی نیا مسئلہ لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ میونسپل صدر نے بتایا کہ شہر کو ترقی دینی ہے تو تبدیلی ضروری ہے، پہلے بس اسٹینڈاسی میونسپالٹی کے سامنے تھا، جسے اوپر نیشنل ہائی وے منتقل کیا گیا، سنتے مارکٹ کو بھی نیچے سے اوپر شفٹ کیا گیا، اب نئی مچھلی مارکٹ تعمیر کرکے تین سال ہوچکے ہیں اور یہ لوگ جانے کے لئے تیار نہیں ہیں تو ہمیں اب سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ پرویز نے بتایا کہ کارپوریشن ہو یا میونسپالٹی ہو، یہاں جو بھی فیصلے ہوتے ہیں، اُن فیصلوں کو ماننا عوام کے لئے ضروری ہوتا ہے، دوسرے شہروں میں میونسپالٹی سے لوگ ڈرتے ہیں، لیکن یہاں بعض لوگ میونسپالٹی کو ہی ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش کررہے ہیں جو صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم میونسپالٹی قوانین کے تحت چلتے ہیں اگر ہم غلط کررہے ہیں تو اُنہیں عدالت جانے کا پورا اختیار ہے۔ ہمیں دکانوں کا آوکشن کرنے نہیں دیا جارہا ہے، دکانوں کا کرایہ نہیں دیا جارہا ہے، مارکٹ شفٹ کرنے نہیں دیا جارہا ہے،ایسی صورت میں ہم کیا کریں ، ہم اپنا کام آگے کیسے بڑھائیں، میونسپالٹی کو جو آمدنی ہوتی ہے وہ عوام کا پیسہ ہے۔ پرویز قاسمجی نے واضح کیا کہ میونسپالٹی اب پرانی مچھلی مارکٹ میں ٹینڈر یا اوکشن نہیں کرائے گی ، پرانی مچھلی مارکٹ کو نئی مارکٹ میں شفٹ ہونا طئے ہے اور یہی ڈپٹی کمشنر کا بھی حکم ہے۔ دھرنے کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ اُس سے نپٹنا پولس کا کام ہے۔
Full video: